:حامد رضا کے سوالات کے آئینے میں 

Published on (July 09, 2018)

:حامد رضا کے سوالات کے آئینے میں

حامد رضا ، سیکرٹری پبلک ریلشنز ان ایف بی آر ،لیکن میرے لئے صرف میرا پرانا کلاس فیلو اور دوست ۔۔ایف سی کالج کے گراؤنڈز، ان کا سبزہ ، کینٹین کے سموسے اور چائے ،ٹیچرز اور کلاس فیلوز کی مشترکہ یادیں ہوں اور جو وقت موجود ہے اس میں انسان ایک دوسرے کا مخلص دوست بن جائے ، تو اس سے ذیادہ امارت کی بات ہی کوئی نہیں ہو سکتی ۔ حامد ایک فیملی ممبر کی طرح ہے ، جب وہ میری بیٹی کی آنکھوں میں ذہانت کی چمک دیکھ کر کہتا ہے میری بھانجی تو بالکل پرانی روبینہ ہے تو مجھے پرانے رشتوں کی مضبوطی اور خوبصورتی کا احساس ہو تا ہے ۔ جب وہ میرے کسی بیٹے کی آنکھوں میں شرارت کی چمک دیکھ کر مجھے بتاتا ہے کہ یہ تو ایف سی کالج والی ہماری روبی کی آنکھیں ہیں ۔۔ تو میری آنکھوں میں گذرے دنوں کی خوبصورتی نمی بن کر اتر آتی ہے ۔ حامد ایک منکسر المزاج ، محنتی اور مخلص انسان ہے ۔ دی نیوز میں ایک صحا فی کی حیثیت سے اپنے کئیریر کا آغاز کیا ، اور پھر بعد میں سول سروس کی بناوٹی دنیا میں جا پھنسا لیکن شکر ہے ہمارے لئے وہ وہی سادہ سا حامد ہی ہے ۔ ایک لحاظ سے مجھے وہ اپنے سے برتر لگتا ہے اور وہ ہے اس کا مذہب اور روحانیت کی طرف رحجان ۔ وہ ایک بہت منجھا ہوا رائٹر ہے، وہ سماجی ،تاریخی ، اور سیاسی مسائل پر انگریزی میں ہی لکھتا ہے ۔میری طرح انگریزی ادب میں ماسٹرز کر کے اردو میں نہیں لکھتا ۔ یہ سوالات بھی انگریزی میں تھی جن کا مجھے ترجمعہ کر نا پڑا ۔۔۔ میری حوصلہ افزائی کے لئے چمکتے چہرے کے ساتھ ہر جگہ آ موجود ہو تا ہے ۔۔۔۔۔ شکریہ حامد ۔
حامد : یو نیورسٹی کے دنوں میں آپ کی شہرت ایک لاپرواہ اور دوسروں کا مذاق اڑانے والی روبینہ کی تھی ۔ جس کی اپنی ایک چھوٹی سی دنیا تھی ، جس میں سوائے قہقوں کے کچھ نہیں تھا ، ایسا لگتا تھا جیسے اس کے باہر کی دنیا کی آپ کو خبر ہی نہیں لیکن اب میں دیکھتا ہوں ، آپ اردگرد ہو نے والے تمام سیاسی ، سماجی واقعات سے باقی سب سے ذیادہ آگاہ رہتی ہیں بلکہ ان پر بڑے ذوردار طریقے سے اور سنجیدگی سے قلم اٹھاتی ہیں ۔۔ یہ تبدیلی کیسے ؟
روبینہ : الفاظ کو بیان کر نے کی طاقت شائد بعد میں آئی ہو ، محسوس کر نے کی شروع سے ہی تھی ، شائد بچپن سے ہی ۔ میں وہ بدقسمت رہی ہوں جن کی غیر ضروری حد سے بڑی حساسیت انہیں چین سے جینے نہیں دیتی ۔محسوس سب کر لیتی تھی ، لیکن لکھنے کا حوصلہ کینڈا آکر ، شادی کے بعد آیا ۔
کالج کے زمانے میں، شرارتوں اور ہنسی کی پھلجڑیوں میں اندر کے کرب کو ڈحال لینا آسان تھا۔ جیسے جیسے عمر ، مشاہدہ اور تجربہ بڑھتا گیا ، درد اور تکلیف کو اظہا ر کے لئے ہنسی کے علاوہ بھی کسی اور ذریعہ اظہار کی ضرورت محسو س ہو ئی ۔ اندرونی کرب الفاظ میں ڈھلنے لگا ۔ باتیں کر نے میں میں اب بھی ایک مزاحیہ فنکار ہی ہوں ، اسی لئے لوگ پو چھتے ہیں کہ کیا یہ تحریریں فیصل محمود کی ہو تی ہیں ؟ کیونکہ وہ ہی سنجیدہ مزاج ہیں ۔ اور جو مجھے ذیادہ جانتے ہیں وہ کہتے ہیں مزاح کیوں نہیں لکھتی ۔۔ جیسے کہ تابندہ شاہدہ ، سنئیر جرنلسٹ اور میری پیاری دوست ہیں، اور ساجد بٹ میرے ایک اور بڑے اچھے دوست ۔۔۔ وہ ہر وقت مجھے طنز و مزاح لکھنے کا کہتے ہیں ۔۔ کبھی کبھار کو شش کر تی ہوں ۔۔ لیکن مزاح لکھنا بہت مشکل کام ہے ۔۔
حامد : کس چیز نے لکھنے پر اکسایا ؟ ٹرننگ پو ائینٹ کیا تھا ؟ کیا آپ سمجھتی ہو کہ آپ پیدائشی رائٹر تھی یا کاغذ، قلم اور الفاظ کے ساتھ کھیلتے کھیلتے یہ ہنر آگیا ؟
روبینہ : رائٹرز یا جو بھی تخلیقی انسان ہو تا ہے ، اس کے اندر کوئی ایک مختلف کیڑا ، خدا رکھ کر بھیجتا ہے ، جو اسے چین نہیں لینا دیتا ۔ آپ کو پتہ ہے نا میری بنک میں جاب ایم انگلش کے پارٹ ون میں ہی ہو گئی تھی ، تو بنک کی ایسی اچھی نوکری اتنی کم عمری میں ، اپنے بل بوتے پر ملنے کے باوجود ، میں بے سکون رہتی تھی ،اور سوچتی رہتی تھی کہ کیا یہی نو سے پانچ ، زندگی گذار کے میں مر جاؤں گی ، تو روٹین لائف میری گھٹی میں شروع سے ہی نہیں تھی ۔۔ شادی کے بعد فیصل کی حوصلہ افزائی اور کینڈا کے پریشر فری ماحول نے مجھے لکھنے کی طرف ذیادہ مائل کیا ۔
حامد : کینڈا کے ماحول نے آپ کو رائٹر بنانے میں کس حد تک اور کیا کردار ادا کیا ہے ؟
روبینہ : میں کینڈا نہ آتی تو شائد رائٹر بھی نہ بن پاتی ۔ اس کی کئی وجوہات ہیں : پہلی یہ کہ میں نے وہاں بنک کی نوکری میں پھنسے رہنا تھا ، اورساتھ میں گھر اور بچوں کے سکول اور صحت کے اخراجات نے ہم دونوں کو گھن چکر بنائے رکھنا تھا ، تو مجھے کتابیں پڑھنے کا موقع نہ ملتا ۔لکھنا تو دور کی بات ہے۔ دوسرا کینڈا میں آکر میرا مشاہدہ ، تجربہ اور میرا شعور بڑھا ۔ میری عقل کی کھڑکی کھلی ۔ بچوں کو ڈے کئیر میں چھوڑ کر جاب نہ کر نے کا فیصلہ کر کے میں نے اپنے بنکنک یا اکاؤنٹنگ کے کئیرئیر کو تو ختم کر لیا مگر ان کو اپنے ہاتھوں میں پالنے کے سکون کے ساتھ ساتھ ، خود کی ذہنی نشوونما کا فائدہ بھی اٹھایا ۔ یہاں صحت اور سکولنگ فری ہو نے کی وجہ سے ، بنیادی ضرورتوں کے لئے خواری نہیں کرنا پڑتی ۔ تو باقی میری دنیاوی خواہشیں اتنی محدود رہی ہیں کہ فیصل کی کمائی میں باآسانی گزارا چلتا رہا ہے ۔ میں نے یہ کھوج لیا تھا کہ میری خوشی مادی آسائشوں سے ذیادہ ، تخلیقی کاموں میں ہے ۔میرا کتابوں کا خرچہ کپڑوں کے خرچے سے ذیا دہ ہو تا ہے ۔ جیولری مجھے ، بچے اور فیصل مختلف مواقع پر تحائف کی صورت دیتے رہتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک عورت کی ننھی ننھی خواہشیں بھی کینڈا آکر پو ری ہو رہی ہے ، گھر ، زیور کپڑا لتا اور ساتھ میں میری لکھنے پڑھنے کی ہڑک بھی ۔۔۔پاکستان میں رہ کر تو شائد میں منافقت اور کر پشن پر کڑھ کڑھ کر ہی اب تک فوت ہو چکی ہو تی ۔آپ سے ذیادہ کون میری سادگی اور سچائی کا گواہ ہو گا ؟ اس کے ساتھ ساتھ کینڈا میں جتنا بھی سکون ہو ، ہجرت کے دکھ آپ کو گہرائی عطا کرتے ہیں جس نے بلاشبہ میری تحریروں کو جلا بخشی ۔
حامد : دو دہائیوں سے کینڈا میں رہتے ہو ئے ،آپ نے وہاں اپنی کمیونٹی میں کیا محسوس کیا ؟ ان کی روزمرہ کی زندگیاں کیسی ہو تی ہیں ؟ایک رائٹر کی حیثیت سے آپ اس سب کو کیسے دیکھتی ہیں ؟
روبینہ : کوئی شک نہیں کہ میں نے پاکستان سے ذیادہ زندگی کینڈا میں گذار دی ہے لیکن حامد ایک بات کہوں میرا لاہور میرے اندر سے کہیں جا تا نہیں ۔ اور یہ میرا ہی حال نہیں یہاں، سب صحت ، تعلیم اور مساوی حقوق کے فوائد اٹھانے کے باوجود اپنی گلیاں ، اپنا بچپن ، اپنا کینچے ، اپنی پتنگیں ،اپنے سکول کالج اور اپنے ابا ؤ اجداد کی قبریں ساتھ ساتھ اٹھائے پھرتے ہیں ۔ یہاں ہم مہاجر ہو نے کے باوجود تھرڈ کلاس شہری نہیں ہیں ، جیسے اپنے ملک کے باسی ہو نے کے باوجود ، مڈل کلاس ہو نے کی وجہ سے ایک کلاس کی تفریق کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔ یہاں وزیرِ اعظم اور میں برابر کے انسان ہیں ۔ کینڈا دنیا کا سب سے پر امن ، غیر متعصب اور پیارا ملک ہے ۔ اس کے باوجود ،ایسا لگتا ہے جیسے ہم ایسے پودے ہیں جو جڑوں کے بغیر ادھر اُدھر بے مقصد مارے مارے پھر رہے ہیں ۔ کبھی کبھی خواب میں ایف سی یا ہیلی کالج کے گراونڈز نظر آجائیں ، تو وہ سارا دن آنکھوں سے خاموش بہتے پانی کو چھپانے میں نکل جا تا ہے۔۔۔۔۔۔یہ مہاجرین کا یونیورسل درد ہے ۔ایک رائٹر ہو نے کی وجہ سے مجھے یہ سہولت ہے کہ میں سماجی ، سیاسی ، اخلاقی اور جذباتی مسائل کو کہانیوں کی صورت کہہ دیتی ہوں ۔ جس سے لگتا ہے کہ یہ باتیں پاکستان کا کوئی رائٹر نہیں لکھ سکتا ، کینڈا کے اندر آج ، مہاجرین کے مسائل اور ان کی تاریخ جن کہانیوں میں لکھی جا رہی ہے وہ ہم جیسے رائٹر ہی لکھ سکتے ہیں تو بس اس انفرادیت کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔ اور مجھے لگتا ہے کہ مہاجرین کی سب ان کہی کہانیاں ، کہنا ، میرا فرض ہے اور اسے ہر حال میں نبھانا ہے ورنہ بہت سال بعد کس کو خبر ہو گی کہ پاکستانی مہاجرین اس عہد میں کینڈا میں کیسی زندگی گذار رہے تھے ۔ میں خشک تاریخ کی کتابوں میں نہیں اپنے آپ کو اور دوسرے پاکستانی مہاجرین کو اپنی اور یہاں رہنے والے دوسرے اردو رائٹرز کی کہانیوں میں دیکھنا چاہتی ہوں ۔۔۔ بس ۔
شکریہ روبینہ ۔۔
شکریہ حامد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔