روبینہ فیصل ،ساجد بٹ کے سوالوں کے آئینے میں

Published on (May 25, 2018)

روبینہ فیصل ،ساجد بٹ کے سوالوں کے آئینے میں

 

ساجد بٹ، ایک ریڈیالوجسٹ ہیں مگر ان سے میری دوستی کی وجہ ان کی شخصیت کے اندر ایک پرانے زمانے کے مردوں جیسی بردباری اور وقار ہو نے کے ساتھ ساتھ ان کی ادب شناسی ( انگریزی اور اردو ،دونوں زبانوں میں) بھی ہے ۔ ان کی موسیقی کی سمجھ بوجھ اور حس ِ مزاح ایک ایڈیشنل وجہ ہے ۔ ہم دونوں میں ایک قدیم زمانے کی روح بھی بستی ہے تو ہم ای میل یا وٹس ایپ کے ساتھ ساتھ کبھی کبھار ایک دوسرے کو غالب جیسے تو نہیں مگر اس کی یاد میں خطوط بھی لکھ دئیے کرتے تھے، جو کسی بھی ادبی معیار پر آرام سے پو را اتر سکتے ہیں ۔ ساجد کا مطالعہ وسیع ہے اور وہ کرکٹ پر لکھتے بھی ہیں ۔ انہوں نے اپنی کئی غیر مطبوعہ چیزیں میرے ساتھ شیئر کی ہیں ۔ جنہیں پڑھ کر مجھے حیرت ہو ئی کہ ابھی تک وہ صاحب ِ کتاب کیوں نہیں ہیں ؟ لیکن شائد وہ پرفیکشسنٹ ہیں ، اس لئے بہترین کے انتظار میں ہیں ۔۔ اور مجھے امید ہے کہ انشا للہ وہ جلد ہی اپنے معیار کے حساب سے بھی بہترین لکھ پائیں گے ۔ مجھے ایسے پیارے اور مہذب انسان کی دوستی پر فخر ہے۔
ساجد: کچھ اپنی ابتدائی زندگی اور خاندان کے بارے میں بتائیں ؟ والدین میں سے کس سے ذیادہ قریب تھیںیا ہیں ؟
روبینہ :یہ سوال روایتی ضرور ہے مگر ہر کہانی یہیں سے شروع ہو تی ہے ۔ انسان کی شناخت ،پہلے اس کا خاندان اور بعد میں اس کی ذات
ہو تی ہے ۔ میرا بیٹا بھی مجھ سے پو چھتا ہے کہ ہمارا فیملی ٹری کیا ہے ؟ میری یاداشت اپنے نانا ، وہ بھی سوتیلے والے اور ددھیال سے صرف اپنے ابو کی ذات تک جاتی ہے ۔ امی کے والد ان کی پیدائش کے فورا بعد ہی دنیا سے چلے گئے تھے اور ہمارے ابو بھی پتہ نہیں کب سے یتیم تھے ۔ یہ پتہ ہے کہ امی کا گاﺅں سوہدرہ اور ابو کا میانوالی ہے ۔ ہم، ان دونوں کے دور کے اور قریب کے رشتے داروں سے بھی ملتے ہیں ، بچپن میں تو کبھی نہیں ، اب کبھی کبھار ۔بچوں کی اسائنمنٹ بنواتے ہو ئے امی ابو کو فون کر کے ان کے اباﺅ اجداد کا نام پو چھتی ہوں ۔۔ اور پھر بھول جاتی ہوں ۔۔
لائلپور وہ شہر ہے ۔جہاں امی ابو کی شادی ہو ئی تھی ، اور جہاں میں تین بہنوں کے بعد پیدا ہو ئی تھی ، اور میرے بعد دو بھائی آئے تھے ، تو مجھے میری پڑنانی ( جنہوں نے میری امی کو پالا تھا ) ،”ڈھونڈ کے لبی “۔۔ کہتی تھیں ۔تو امی چڑ کر کہتی تھیں ، اتنی بیٹیوں کے بعد پیدا ہو ئی ہے ، ابھی بھی ڈھونڈ کے لبی ( ملی ) ہے ۔۔ لیکن میرے لئے ان کی لوری یہی تھی ۔۔۔ میرے پیچھے دو بھائی آئے ۔۔ میں کبھی بڑی بہنوں کے ساتھ گڈیاں کھیلتی ، اور کبھی بھائیوں کے ساتھ پتنگیں اڑاتی ،گلی ڈنڈا اور کینچے بھی کھیلتی ۔۔ کرکٹ ہم سب بہن بھائی ،سب سے بڑی نہیں ، باقی سب ، خوب کھیلتے ، وہ بھی کارک کی سخت گیند سے ۔۔پڑھنا ، کھانا پینا ، کھیلنا ، سونا ۔۔اس کے علاوہ کچھ یاد نہیں ۔
میں بچپن میں تو صرف بہنوں کے قریب تھی ، کیونکہ امی کے قریب وہ تھیں ، امی تک میری پہنچ نہیں تھی ، یا ان کی نظر مجھ تک پہنچتے پہنچتے ، درمیان میں تین بہنوں پر ہی رک جاتی تھی ، پھر وہاں سے سیدھی بیٹوں پر ۔۔لیکن جب سب کی شادیاں ہو گئیں ، تو میں امی کے قریب ہو گئی، اور امی میری دوست بن گئیں ۔ گووہ صبح سکول اور شام کو ٹیوشن سنٹر چلاتی تھیں ، اور ہمیں بھی اپنے ہاتھ کا پکا کھانا ہی کھلاتی تھیں، تو ہر وقت مصروف ہی رہتی تھیں ۔ میں نے اس زمانے میں بہت ساری سہیلیوں کا جنجال پال لیا اور انہی کے ساتھ کچھ وقت گذاری ہو جاتی ۔۔امی کی اکیڈمی میں میڑک کے بعد سے ہی پڑھانا شروع کر دیا تھا ۔۔ پڑھا پڑھایا اور کھیلا ۔۔ اسی لئے میرے اندر لیڈرانہ صلاحیتیں ابھی تک مری نہیں ہیں ۔جہاں تک ابو کا تعلق ہے ، ان کی اپنی ایک دنیا تھی ، جس میں ہمارا گذر نہیں تھا ۔ ہم سب اپنے جذباتی ، معاشی اور ہر طرح کے مسئلوں کے لئے امی کے ہی اردگرد گھومتے تھے ۔۔۔ میں شائد سب سے زیادہ امی سے شاکی رہتی تھی کہ وہ مجھے اگنور کرتی ہیں ۔۔ مگر اب انداز ہ ہوتا ہے کہ سب ذمہ داریوں کے ساتھ روزمرہ کی ماﺅں جیسی نازک نازک پپیاں جھپیاں ،کتنا مشکل کام ہے ۔ اس لئے ماﺅں کو گھر وں میں بچوں کے ساتھ اور باپ کو باقی کی ذمہ داریاں پوری کر نے لئے اپنے خاندان کے ساتھ ایماندار، سچا اور مخلص ہو نا ہی درست نظام لگتا ہے ۔ خاندان ایسے ہی متوازن رہتے ہیں ۔ بچے پیار کے لئے پھر باہر کی طرف نہیں دیکھتے ۔
ساجد : اپنی زندگی میں کس سے سب سے پہلے متاثر ہو ئیں ؟یہ تاثر کتنے عرصے تک قائم رہا ؟ کیسے ختم ہوا ؟ کیا اب بھی کسی سے متاثر ہیں ؟
روبینہ : میںجس سے بھی ملتی ہوں خلوص سے ملتی ہوں ۔مگر متاثر بہت کم ہو ئی ہوں ۔ اکثر لوگوں کی زندگی میں ان کے استاد انہیں متاثر کر تے ہیں مگر میں اس معاملے میں بدقسمت رہی ، کوئی ایسا استاد بھی نہیں ملا ۔ اگر کسی کی علم و فضیلت سے یا انسانیت سے متاثر بھی ہو ئی تو یہ بڑا لمحاتی سا فیز ہو تا ، اور یہ لمحہ ذیادہ سے ذیادہ ایک سال تک جاتا ۔ کیونکہ میری ذہانت اور چھٹی حس اس سے ذیادہ غفلت کی نیند نہیں سوتیں ۔ ادھر وہ بیدار ہو جاتی ہیں اور ادھر دوسرے انسان کی بھی ڈارک سائڈباہر نکل آتی ۔ میرا خیال ہے کہ کم سے کم ایک مہینہ اور زیادہ سے زیادہ ایک سال کے اندر ہر انسان کا اصل باہر آجاتا ہے ۔اور میرا معیار ہے تو” ایک” ، مگر وہی کم بخت اس دنیا میں ناپید ہے۔ اور وہ ہے “سچائی”۔۔۔میں نے اتنے بڑے بڑے لوگوں کو اتنے چھوٹے چھوٹے جھوٹ لوگوں سے اور خود سے بھی بولتے دیکھا کہ میرا خود پر سے بھی یقین اٹھ گیا ۔ کچھ دیر کو میں بھی اس جھوٹ کی دلدل میں اتری اور خود سے بھی اتنی ہی نفرت ہو ئی جتنی دوسرے جھوٹوں کو دیکھ کر ہو تی ہے ۔ بس یہی میری ایک کمزوری ہے ، جو لوگ جھوٹ بولتے ہیں وہ میری نظروں سے گر جاتے ہیں ،چاہے وہ میں خود ہی کیوں نہ ہوں اور چاہے وہ کتنے بھی عظیم کیوں نہ ہو جائیں ، میں متاثر ہو نا تو دور کی بات ، ان کی جھوٹی عزت بھی نہیں کر سکتی ۔۔۔
ہاں !! البتہ کینڈا میں ایک جاوید چوہدری صاحب ہیں ، جو اتنے سچے ہیں اتنے ایلیگنٹ ہیں کہ لگتا ہے کہ سچائی میں قائد اعظم کا دوسرا روپ ہیں ۔ میں ان کی دل سے قدر کرتی ہوں ۔ اور ان کی سچائی سے متاثر ہوں اور کوشش کرتی ہوں کہ ویسی ہی پاک شفاف رہوں جیسے وہ ہیں۔
ساجد : آپ کی شخصیت کی سب سے بڑی خوبی یا طاقت کیا ہے اور کمزوری کیا ہے ؟
روبینہ : میری کمزوری یہ ہے کہ میں فیس ویلیو پر یقین کر لیتی ہوں ،جو کسی نے کہا اسے من و عن تسلیم کر لیا ۔ بلائنڈ ٹرسٹ ، اس نے مجھے زندگی میں جا بجا ، ایسے بچھوﺅں سے ڈنگ کھانے پر مجبور کیا ، جنہیں سمجھدار لوگ کبھی قریب بھی نہ پھٹکنے دیں ، مگر میں ظاہری حالت کو ہی انسان کے دل کی حالت سمجھ لیتی ہوں ۔ کوئی رویا تو آنسو سچے ہی ہو نگے ، کوئی ہنسا ، تو خوش ہی ہو گا ۔۔ میں لوگوں کے نقاب کے پیچھے جھانکنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ، جب وہ اپنا ماسک پھینکتے ہیں ، ان کی ضرورت تبدیل ہو تی ہے اور وہ روپ بدلتے ہیں تو ہی میری چھٹی حس بیدار ہو تی ہے ( اصولا تواسے سوئی ہو ئی حس کہنا چاہیئے مگر میں خود کی تسلی کے لئے اسے چھٹی کہہ لیتی ہوں ، خود کو بھی تو زندہ رکھنا ہوتا ہے کوئی نہ کوئی تسلی دے کر ) ۔۔ ورنہ تو میرا اعتماد جسے توڑنے کی بار بار کوشش ہوئی ، اب تک پارہ پارہ ہو چکا ہو تا ۔۔ تو خود کی بقا کے لئے یہ لفظوں کا ہیر پھیر ضروری ہے ۔
میری طاقت :میرا کلاﺅن ماسک ہے،۔ لوگوں کے سامنے ایک ہمت ، ایک ارادے کے ساتھ ڈٹے رہنا ، مسکراتے رہنا ، بڑے سے بڑے غم اور دکھ کو آنکھوں تک نہ آنے دینا ۔ ۔ وہ ماسک میری طاقت تھا ، اب جگہ جگہ سے پھٹ گیا ہے ۔ اس لئے اب اصلی روبینہ نظر آجاتی ہے تو میرے پرانے دوست جو اسی ماسک کو جانتے ہیں ، شور مچا دیتے ہیں کہاں ہے ہماری شوخ روبینہ ہمیں اس سے ملنا ہے۔یہ اندر باہر کی جنگ مرتے دم تک جاری رہے گی فی الحال میں نے اپنے کمزور ہاتھوں سے ماسک کو مضبوطی سے تھام رکھا ہے۔
ساجد : موجودہ لکھنے والوں میں سے سب سے زیادہ کسے ریٹ کرتی ہیں اور کیوں ؟
روبینہ : مجھے منشا یاد بہت پسند تھے ، پھرمستنصر حسین تارڑ ,مرزا اطہر بیگ اور عاصم بٹ ۔۔مختار مسعود کی کتابیں بھی مشعل راہ ہیں ۔ باقی خود کو کسی کو ریٹ کرنے کے قابل نہیں سمجھتی ۔ لیکن آج کے دور میں جو بھی اردو میں لکھ رہا ہے ، اسے زبان سے محبت کے علاوہ کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ کیونکہ اردو کے رائٹر کا نہ نام ہے نہ انہیں پیسہ ملتا ہے ۔۔ ہاں ریٹنگ کروانی ہے تو پاکستانی ڈرامہ ، ڈائجسٹ رائٹرز کی ہو سکتی ہے ، کیونکہ لوگوں میں وہی مقبول ِ عام ہیں ۔
ساجد : اردو کا عظیم ترین افسانہ کون سا ہے اور کیوں ؟
روبینہ :کسی ایک کا نام لکھنا میرے لیئے مشکل ترین کام ہے ۔ میں اپنی پسند بتا سکتی ہوں ، مگرکہانی کی ادبی عظمت کا تعین نہیں کر سکتی ۔ میں ناقد نہیں صرف ایک قاری ہوں ۔ مجھے منشا یاد کا © افسانہ” ماس اور مٹی” ایک بہت بڑا افسانہ لگتا ہے ۔ انسان کی بھوک کا جس طرح ذکر ہے اس میں، رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ ممتاز مفتی کی کتاب “سمے کا بندھن “بہترین افسانوں سے بھری ہو ئی ہے ، لیکن ایک افسانہ” دو مونہی” اور” ایک ہاتھ کی تالی” انسانی نفسیات کی گنجلیں کھولتے افسانے ہیں ۔ ایک مرد کے قلم سے عورتوں کی نفسیات اور محبت کے درجات پر ایسی سچی کہانیاں لکھنا ، حیرت میں ڈالتا ہے ۔
ساجد : آپ کا پسندیدہ شعر کون سا ہے ؟ اور کیوں ۔۔۔۔
روبینہ:میرا پسندیدہ شعر ہے:
لکھتے رہے جنوں کی حکایات ِ خونچکاں
ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہو ئے
کیوں کا جواب بھی شعر میں ہی ہے ۔
ساجد :آپ کے خیال میں اردو کی پانچ عظیم ترین کتابیں کو ن سی ہیں ؟
روبینہ : ایک دفعہ پھر سے کہہ دوں عظیم کا نہیں پتہ مگر میری پسندیدہ یہ ہیں : مختار مسعود کی آواز دوست ،شوکت صدیقی کا ناول خدا کی بستی ،قرتہ العین حیدر کا آگ کا دریا ، عبداللہ حسین کا اداس نسلیں اور نادار لوگ اور مرزا اطہر بیگ کا غلام باغ ۔مزاح میں مشتاق یوسفی کی آب ِ گم۔

ساجد: یہی سوال غیر اردو کتابوں کے بارے میں ؟
روبینہ: میری پسندیدہ غیر اردو کتابیں ہیں

Mill on the Floss by Georgr Eliot

Paradise lost by Milton

Oedipus Rex by Sophocles

The Canterbury Tales by G.Chaucer

The rape of the lock by Alexander Paope

Mother by Anton Chekhov

Lord of the Flies by William Golding

Hemingway’s old man and the sea and almost all of his writings ..I am big fan of him.

Its long long list .. I cant limit myself to 5.

:
ساجد : پاکستان اور پاکستانیوں کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے ؟
روبینہ :اسوقت تو پاکستان کے اندر اور پاکستان سے باہر ، سب پاکستانیوں کا مسئلہ جذباتیت اور عدم برداشت ہے ۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ، اس کا مسئلہ پاکستانی ہیں ۔ پاکستانیوں کو ٹھیک کر دو تو پاکستان خود بخود ٹھیک ہو جائے گا ۔
ساجد : اگر آپ کو پاکستان کا وزیر ِ اعظم بنا دیا جائے تو پانچ بڑے کام کون سے کریں گی ؟
روبینہ : سب سے پہلے تو سارے کرپٹ سیاست دانوں ، بیورکریٹس ، فوجیوں اور میڈیا والوں کو الٹا لٹکا دوں گی ۔اس کے بعد اگر خود بچ گئی تو مندرجہ ذیل کام کروں گی :
۱:پاکستان زرعی ملک ہے ، اس شعبے کو ایمانداری سے ٹھیک کر دیا جائے تو پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈالا جا سکتا ہے ۔ تمام قدرتی ذرائع کو بروئے کار لاﺅں گی ۔
۲: میں سمال ،کاٹیج انڈسٹری کو فروغ دوں گی ، لوگوں کو ہنر اور ملازمتوں کی ضرورت ہے ۔ ٹیکنو کریٹس کے ہاتھوں میں اداروں کا نظام ہو گا ۔ نہ کہ خوشامدی بیورو کر یٹس اور سفارشی مافیا کے ہاتھوں ۔اقربا پرور ی کے خلاف سخت ترین ایکشن لوں گی ۔ سو فی صدی میرٹ پر بھرتیاں ہو نگی ۳: پورے ملک میں نظام تعلیم یکساں کر دوں گی ، دینی مدرسہ ، سرکاری سکول ، پرائیوٹ سکول اور اس سے بھی مہنگے پرائیوٹ سکول ۔یہ چار پر تقسیم ہوا ہوا نظام ، ایک چھتری تلے لے آﺅں گی ۔۔ اس کے لئے پرائیویٹ سکولز کو قومیانہ پڑے یا سرکاری سکولوں کو پرائیوٹ سکولوں کے مالکان کے سپرد کر نا پڑے اور مدرسوں کو ختم کر نا پڑے ۔۔ کچھ بھی کرنا پڑے ۔۔میں یہ طبقاتی تفریق کو بڑھاتا ہوا نفرت انگیز نظام ختم کر دوں گی ۔۔مجھے اس سے گھن آتی ہے ۔
۴:آرٹ ،کلچر اور ادب کو فروغ دینے کے لئے ہر ممکن طریقہ آزماﺅں گی ، لوگ کامرس اورسائنس کے ساتھ ساتھ آرٹ اور ادب کو بھی اعلی معیار زندگی کی علامت سمجھیں ۔ اعلی تعلیم کا مقصد صرف اچھی نوکری نہیں اچھے انسان بنانا بھی ہو ۔ سکولز میں ہی یہ سب مضامین لازمی کروا دوں گی اور سوک سینس کے لیکچر سکولز اور پارلیمنٹ کی اسمبلیوں میں ہو نگے ۔
۵: لوگوں خاص کر کے بچوں اور عورتوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر توجہ ہو گی ۔ قوم کی مائیں صحت مند ، باکردار اور نفسیاتی طور پر مضبوط ہو نگی تو نسلیں اور معاشرے ٹھیک ہو نگے ۔ کوئی بھی جذباتی یا جسمانی تشدد برداشت نہیں ہو گا ۔ اس کے لئے کڑے قانون ہو نگے ۔ پولیس کی تنخوائیں اچھی کر دی جائیں گی ۔ تاکہ وہ چھوٹی چھوٹی رشوتوں کی خاطر بڑے بڑے جرائم کی پردہ پوشی یا سرپرستی نہ کریں۔
یہ پڑھ کر کوئی بھی مجھے پاکستان کا وزیر ِ اعظم نہیں بننے دے گا ۔۔ ساجد ! آپ نے میری ترقی کے دروازے پہلے ہی بند کر دئے ۔ ( lol)
ساجد ! آپ کا بہت شکریہ ۔۔وقت نکال کر یہ سوالات ترتیب دیئے ۔۔