خالد سہیل ٹورنٹو کے مقبول ادیب،تجزیہ نگار،شاعراور سائکوتھراپسٹ

Published on (May 30, 2018)

 

ٹورنٹو کے مقبول ادیب،تجزیہ نگار،شاعراور سائکوتھراپسٹ خالد سہیل 

کوئی سترہ اٹھارہ سال سے ڈاکٹر خالد سہیل کے ساتھ ایک وضع داری، اپنائیت اور ادبی تعلق ہے۔ ڈاکٹر صاحب، غیر روایتی انسان ہیں۔ گھریلو زندگی ہو، یا رشتے داریاں، مذہبی عقائد ہوں یا سیاسی نظریات، تاریخی عوامل ہوں یا شخصیات کی بات، ڈاکٹر صاحب، کی ہر بات نرالی ہے۔ نرالی مطلب عام پاکستانیوں سے ہٹ کر, اس بات کے باوجود اتنے سالوں سے ڈاکٹر صاحب اور میرے درمیان عزت اور دوستی کا رشتہ برقرار ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ ہے، جو ہر انسان کو ڈاکٹر صاحب سے سیکھنے کی ضرورت ہے، وہ یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کسی کو بھی نظریات اور عقائد کے پیچھے ذلیل کر کے اپنے دل کی محفل سے نہیں نکال دیتے۔ وہ اپنے رویے میں تبدیلی لے آتے ہیں یعنی کس کو کہاں رکھنا ہے اور کس کے سامنے کیا بات نہیں کہنی، مگر وہ انسانوں کو نظریات کے پیچھے ضائع نہیں کرتے۔ عورت اور مرد کی تحصیص بھی نہیں کرتے، سب کو افراد سمجھ کر دوستی کی لسٹ بناتے ہیں۔ تو جو انسان دوسروں کی عزتِ نفس کی پرواہ کرتا ہو، اس کے ساتھ آپ کی وقتی اختلاف یا وقتی غصہ تو ہو سکتا ہے مگر وہ آپ کے ساتھ ایک مستقل دھاگے میں بندھا ہی رہتا ہے۔۔ سائکو تھراپسٹ ہیں۔ اس لئے بھی شائد ہم جیسے پاگلوں کو بڑے سلیقے سے ہینڈل کرتے ہیں۔۔ مختلف موضوعات پر بہت سی کتابیں اردو اور انگریزی زبان میں لکھ چکے ہیں اور اگر ٹورنٹو کے رائٹرز میں سے سب سے منظم ہونے کا ایوارڈ ہو تو ڈاکٹر خالد کو ہی ملے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر خالد کے سوالات اور روبینہ فیصل۔
ڈاکٹر خالد سہیل: آپ کو کب یہ احساس ہوا کہ آپ کے اندر ایک ادیب چھپا بیٹھا ہے؟
روبینہ: اس کا احساس ابھی بھی نہیں۔ پتہ نہیں ادیب ہوں بھی کہ نہیں، ابھی تک تو جو بھی وحشت ذہن میں سماتی ہے، جو بھی کہانی اکساتی ہے، جو بھی موضوع ہلاتا جلاتا ہے، بس لفظوں کی صورت کاغذ پر اتار دیتی ہوں۔ چپ نہ رہنے کا احساس تو مجھے بچپن سے ہی تھا۔ کچھ محسوس کروں اور اظہار نہ کروں، یا کچھ غلط ہوتے دیکھوں اور چپ رہوں یہ مجھ سے نہیں ہوتا تھا نہ کبھی ہوگا۔ اسی اظہار کا احساس مجھے، شعور سنبھالتے سے ہی رہا ہے۔
ڈاکٹر خالد: آپ نے اپنی ابتدائی تخلیقات کن کو سنائیں اور ان کا ردِعمل کیا تھا؟
روبینہ: ہا ہا۔۔ آپ کو ہی سنائی تھیں۔ مجھے آج بھی یاد ہے وہ دن ، جب میں اور فیصل ایک رستوران میں کھانا کھا رہے تھے۔ 2001 کی بات ہوگی یا اس سے بھی پہلے کی، ہم نئے نئے کینڈا آئے تھے، آپ سب لوگ ایک میز کے اردگرد بیٹھے تھے،پرویز صلاح الدین یہاں وہاں مارے مارے پھر رہے تھے، آج بھی پروگرام آرگنائز کرتے ان کا وہی پریشان حال چہرہ ہی بنتا ہے۔ آپ کے لمبے بال اور بڑھی ہوئی داڑھی دیکھ کر کچھ تشویش ہوئی، ویٹر کو بلایا، پوچھا وہاں، اس کونے میں کیا ہو رہا ہے۔ ویٹر نے ناک بھوں چڑھا کر کہا: کوئی پاگل سے شاعر و اعر اکھٹے ہوئے ہوئے ہیں۔ میرا تو خوشی کے مارے دل حلق سے باہر آنے لگا۔ مجھے پاکستان میں بہت شوق ہوتا تھا کہ شاعروں، ادیبوں کی کمپنی میں بیٹھا کروں، مجھے کافی ہاؤس کا کانسپٹ بہت انساپئیر کرتا تھا۔ ہم نے فوراً پرویز صاحب کو پکڑا اور کہا ہم بھی آپ کے گروپ میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ وہ بھی بہت خوش ہوئے ،فون نمبرز کے تبادلے ہوئے تب سیل فون کا رواج نہیں تھا۔ میں نے ایک دو میٹنگز اٹینڈ کی، آپ ہی کے توسط سے ڈاکٹر ڈینس آئزک سے ملاقات ہوئی، بہت عمدہ اور نفیس شخصیت کے مالک تھے، مگر ان کو دیکھ کر دکھ کی لہر میرے اندر بھر جاتی تھی کیونکہ وہ اپنے عروج پر اپنا ڈاکٹری کا پروفیشن اور رائٹنگ کئیریر چھوڑ کر عمر کے غلط حصے میں کینڈا آئے تھے۔ جہاں اب وہ تقریباً بے نام تھے۔” انتہا “جیسی فلم لکھ کر لوگوں کو سینما میں واپس لانے والا شخص، یہاں روزمرہ کے اخراجات کی بھینٹ چڑھ رہا تھا۔۔۔۔ بات کہیں اور چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔
بہرحال آپ کو اپنا پہلا افسانہ” برف” سنایا۔۔ مجھے یاد ہے مجھے یہ بھی یقین نہیں تھا کہ یہ افسانہ ہے بھی کہ نہیں۔ لیکن آپ نے انتہائی سنجیدگی سے کہا ہماری اگلی میٹنگ میں روبینہ کا افسانہ شام کی مین تھیم ہوگا اور دو رائٹر اس پر تبصرہ لکھیں گیاور پھر جاوید دانش اور ڈاکٹر ڈینس آئزک نے تبصرہ لکھا تھا۔ وہ لوگ مجھ سے بہت سنئیر ہیں تو یہ میرے لئے بڑے اعزاز کی بات تھی۔ افسانے کوبہت پذیرائی ملی، حالانکہ اس وقت مجھے لوگوں کے سامنے پڑھنا بہت مشکل کام لگتا تھا، میں نے پرویز صاحب کو کہا: کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی اور میرا افسانہ پڑھ دے ۔ بہرحال اس وقت آپ کا مجھ پر اعتماد، اور تقریباً 70 لوگوں کے سامنے میرا افسانہ پڑھوانا، اس سے نہ صرف مجھے اعتماد ملا بلکہ مذید لکھنے کا جذبہ بھی پیدا ہوا۔
ڈاکٹر خالد: آپ کے اندر کے جرنلسٹ اور افسانہ نگار کا آپس میں کیسا رشتہ ہے؟
روبینہ: بہت مضبوط۔۔ کالم لکھتی ہوں تو افسانہ نگار وہیں کھڑا رہتا ہے، اسی طرح افسانہ لکھوں تو جرنلسٹ بھی کہتا ہے میں نے کہیں نہیں جانا۔۔۔ دونوں ساتھ ساتھ ہی جڑے رہتے ہیں۔
ڈاکٹر خالد: آپ کے خیالات اور نظریات پر جب لوگ تنقید کرتے ہیں تو آپ کا ردِعمل کیا ہوتا ہے؟
روبینہ: ہمم۔۔۔۔۔۔ جب لوگ اپنے نظریہ کے حق میں دلائل کے ساتھ مجھ سے بات کرتے ہیں، مجھے قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو میں ان کے نظریہ اور خیالات کے بارے میں سوچنا شروع کرتی ہوں اور زیادہ تحقیق شروع کردیتی ہوں۔ میں لکیر کی فقیر نہیں ہوں، اور میرا ایمان ہے کہ کوئی بھی علم آخری علم نہیں ہے۔ اگر میں ایسا سوچتی ہوں تو دوسرا اگر ویسے سوچ رہا ہے تو کیوں؟ تو جن لوگوں کی بات میں وزن ہوتا ہے، اس کو اہمیت دیتی ہوں۔ لیکن جو لوگ صرف میرے خلاف پروپیگنڈا پھیلاتے ہیں۔ یا اتنا کہہ دیتے ہیں کہ اوہ !! وہ تو ہے ہی جذباتی اور کبھی کبھی طالبان کا لیبل لگادیتے ہیں اور کبھی آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہونے کا ، یا کبھی چیپ محب وطنی کا، تو اس سے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔ اور سب سے زہریلا نشانہ میری ذات پر عورت ہونے کی وجہ سے لگا یا جاتا ہے ، یہ بات برداشت کی حد سے نکل جاتی تھی۔ جعلی آئی ڈیز بنا کر اپنے دوست جب اس طرح کا کام کرتے تھے تو بہت ذہنی اذیت ملتی تھی۔
ڈاکٹر خالد: آپ کو عورت ادیب ہونے کی کیا قیمت ادا کرنی پڑی؟
روبینہ: ادیب نہ بھی ہوتی تو، قربانی اور مصالحت کا یہ بھتہ تو ہر عورت کو مردوں کے اس سماج میں دینا ہی پڑتا ہے ، کوئی بھی شعبہ ہو ،عورت کے لئے ترقی کے مواقع اس طرح نہیں جیسے مردوں کے لئے۔ زمانہ جتنی بھی ترقی کر جائے، عورت کتنا بھی پڑھ لکھ جائے اسے سب سے پہلے تفریح کا سامان اور بعد میں کچھ اور سمجھا جا تا ہے۔ آپ پرکشش اور ذہین ہیں تو باہر کی دنیا آپ کے لئے اندھا کنواں ہے۔ اگر آپ اس میں گرتے ہیں تو ظاہر ہے گرتے ہی ہیں اور اگر دامن بچائے رکھتے ہیں تو ساری عمر اس کنویں کے باہر ہی کھڑے رہتے ہیں۔ اس کے اندر کی دنیا میں کیا ہورہا ہے، مواقع، ترقی ، کھلے دروازے۔ آپ پر سب بند ہی رہتا ہے۔۔ ایک لکھنے والی عورت کو باقی شعبوں سے ذیادہ ذہنی اذیت اور قید کا احساس ہوتا ہے۔ میں اپنی ذہنی اور عملی نشونما کے لئے کسی اپنے سنئیر سے اس طرح مستفید نہیں ہو سکتی جس طرح مرد ہوکے ہوسکتی تھی۔مرد یا تو خودفلرٹ کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں جس کی وجہ سے پیچھے ہٹنا پڑ جا تا ہے اور اگر مرد ٹھیک بھی ہوں تو ان کی بیویاں ان پر بات کر نے پر پابندی لگا دیتی ہیں ۔ اس طرح کی بہت سی چھوٹی بڑی باتیں جنہیں میں خود سے بھی دہراؤں تو تکلیف ہوتی ہے۔۔ ایک اور ہلکی پھلکی سی مثال، خاتون رائٹر کاشوہر کوئی عملی مدد نہ بھی کر ے اور خاموشی سے ساتھ بھی دے اور وہ اپنا راستہ خود بھی بنائیں، تو لوگ بڑھ بڑھ کر، عورت کی ہر کامیابی کا سہرا اس کے شوہر کے سر لگاتے ہیں کہ ایسا انڈرسٹینڈنگ مرد ہے۔ تو گھر کے اندر ہی مسئلہ بن جاتا ہے،   شوہر کی اکڑہی کہیں کی کہیں پہنچ جاتی ہے۔ اسے زمین پر لانے کے لئے ایک اور جنگ لڑنی پڑ جاتی  فیصل شوہرسے زیادہ میرا پیارا دوست بھی ہے اس لئے میرے یہ مسائل ذرا کم ہیں۔۔مگر ہیں ضرو

ڈاکٹر خالد: آپ کے مذہبی اور سیاسی نظریات میں کیا فرق آیا ہے؟
روبینہ: بہت فرق آیا ہے۔ جب میں پاکستان سے آئی تھی تو ڈگریاں تع بہت تھیں ، مگر دماغ ، بہت تنگ تھا۔ میرے اندر بھی مذہبی عدم برداشت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، نظریات اہم تھے، لوگوں کو روندنا معمولی بات لگتی تھی۔ غصہ ناک پر دھرا رہتا تھا۔ تاریخ اور سیاست سے کچھ ایسی دلچسپی نہیں تھی۔ جاوید چوہدری صاحب سے باتیں کرتے کرتے پاکستان کی تاریخ اور قائداعظم میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ کچھ سکالرز نے ایک اور دنیا متعارف کروائی۔۔ جس میں بھگت سنگھ، گاندھی، باچا خان رہتے تھے۔۔ بہرحال، سیکھنے کا عمل آج بھی جاری ہے۔۔ مگر دوسروں کو ان کا مخالف نظریات کے ساتھ برداشت کرنا، اور دوستیاں ویسے ہی برقرار رکھنا، یہ بڑے تحمل، سمجھداری اور بڑے دل کا کام ہے۔۔ اس کی میری سامنے کوئی مثال موجود نہیں۔۔ اس پر کام اپنے حساب سے ہی جاری ساری ہے۔
ڈاکٹر خالد: آپ کے ذہن میں ایک کامیاب ادیب کا تصور کیا ہے؟ کیا آپ اپنے آپ کو کامیاب ادیب سمجھتی ہیں؟
روبینہ: نہیں!! میں اپنے آپ کو کامیاب ادیب نہیں سمجھتی کیونکہ کامیاب ادیب وہ ہوتا ہے، جو بے شک اتنا مشہور نہ ہو ، مگر وہ لکھتا جائے اور کوئی سو سال بعد بھی اس کی تحریر اٹھا کر پڑھے تو اسے لگے کہ یہ آج کے حالات پر بھی پوری اترتی ہے۔ کسی بھی ملک میں بیٹھ کر کسی بھی وقت میں، جو تحریر اثر چھوڑ جائے۔۔ وہی ایک ادیب کو کامیاب بناتی ہے۔ میں اسے کوسوں دور کھڑی ہوں۔ اور ابھی اپنے آپ کو ادیب ہی نہیں سمجھتی۔ ابھی تو چھوٹے چھوٹے پاؤں اٹھا رہی ہوں۔۔۔۔گروتھ کا عمل کبھی رکتا نہیں۔
ڈاکٹر خالد: کیا آپ کو ادبی ذندگی کا کوئی پچھتاوا ہے؟
روبینہ: پچھتاوا تو نہیں۔۔ میں تو اپنی طرف سے ہر ممکن اپنی حدود میں رہ کر ہاتھ پاؤں مار رہی ہوں۔ بس اتنی منظم نہیں جتنا ہونا چاہیئے۔ ایک کمی ضرور محسوس ہوتی ہے کاش کوئی میرا ماما، چاچا، تایا، ابا۔۔ ادیب ہوتے۔ کاش میں بہت زیادہ ادبی ماحول میں پرورش پاتی۔ کاش کوئی راہنمائی کرنے والا استاد مل جاتا۔۔۔ ایک لے دے کے ہیلی کالج کا سر پھرا سا شاعر دوست تھا، اسی نے مجھے ادب کی طرف راغب کیا تھا۔ تو بس اسی کی آنکھ سے دیکھنا شروع کردیا تھا۔۔ پھر آپ جیسے دوست مل گئے۔ یہ بھی بڑی بات ہوتی ہے۔۔
ڈاکٹر خالد: آپ کا ادبی خواب کیا ہے؟ 
روبینہ: میں تو ہوں ہی ہیملٹ۔۔ خواب ہی خواب، سوچ ہی سوچ، عملی طور پرست ہوجاتی ہوں۔۔ لیکن ادبی خواب یہی ہے کہ جو کہانیاں میرے ذہن میں ہیں، بس مرنے سے پہلے وہ سب کاغذ پر اتار دوں۔ میں وہ قبر نہیں بننا چاہتی جس کے کتبے پر لکھا ہو کہ یہاں نامکمل کہانیاں سو رہی ہیں۔۔ میں سب کہانیاں کو کاغذ پر اتار نا چاہتی ہوں۔ بس اتنا سا خواب۔۔۔۔۔۔
بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب۔۔ آپ نے ہمیشہ حوصلہ افزائی کی