روبینہ فیصل ،افسانہ نگار مریم مجید کے سوالات کی روشنی میں ۔۔۔۔

Published on (May 26, 2018)

rubymmf

روبینہ فیصل ،افسانہ نگار مریم مجید کے سوالات کی روشنی میں ۔۔۔۔


مریم : آپ کی زندگی میں کیا کبھی کسی تعلق یا ربط میں کوئی ایسا مقام آیا جو آپ کو پوائنٹ آف نو ریٹرن لگا ہو ؟ اور اس سے کیسے نکلیں ؟
روبینہ : ہاں یہ مقام ہر انسان کی زندگی میں ایک دفعہ تو ضرور آتا ہے ۔ میں بھی اس میں سے گذری ہوں ، آخر کو انسان تو ہوں ہی ۔لوگوں کے اختیار میں ہو تا تو شائد یہ حق بھی ایک دوسرے سے چھین لیتے۔
جس ربط ، جس تعلق کا تم پو چھ رہی ہو ،یہ اندھے کنویں میں گرنے کے مترداف ہو تاہے جس میں سے نکلنا مشکل ہوتا ہے،لیکن ناممکن نہیں ۔ اس قصے کو بے نام ہی رہنے دو ، بس یوں سمجھ لو ، زمین سے آسمان اور پھر آسمان سے زمین کا سفر ، کوئی الہامی چیز نہیں ہے ۔۔ایسا ہو تا ہے ۔ میں نے اس اندھے سفر کو جھیلا ہے ۔ جب ایک ہی پل میں اپنا آپ خدا لگتا ہے اور اگلے ہی پل زمین پر رینگنے والا مکوڑہ ۔ ایسی راتوں کی صبح کا وعدہ پیغمبروں ،صوفیوں اور سنتوں نے کیا تو ہے مگر شائد یہ وہ واحد وعدہ ہے جو وفا نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ یہ رات ایک دفعہ انسان کے اندر اگ آئے تو زندگی بھر وہیں ٹھہری رہتی ہے ۔کاٹو بھی تو پھر کسی نہ کسی جنگلی بوٹی کی صورت اُگ آتی ہے ۔اس لیئے کیسے نکلی کا ابھی کوئی جواب نہیں ۔۔ ابھی وہیں ہوں ۔
مریم :آپ کی زندگی میں سب سے بڑی انسپائریشن کون ہے؟
روبینہ:میرے خود سے کئے گئے وعدے ، میرے خواب ۔۔ یہی انسپائر کرتے مجھے ۔۔۔
مریم :بحثیت ایک خاتون، آپ نے صحافت اور میڈیا کو خواتین کے لئے کتنا چیلنجنگ پایا ؟
روبینہ:کینڈا میں بیٹھ کر اردو زبان میں کالم لکھنے کا ایک ہی مقصد تھا کہ اردو پڑھنے والے ( پاکستان میں انہیں کم پڑھا لکھا سمجھا جا تا ہے )
کو ترقی یافتہ دنیا کے حالات ، ترقی کے راز ، اچھی بری باتیں ، محسو سات ،اور تجربات ، اپنے انداز و بیان سے بغیر کسی دباﺅ کے بتا سکوں ۔یہ کام پرسکون ہے ، ہاں ٹاک شو کرتے ہو ئے جب ، باقی لوگوں کا سامنا کرنا پڑا تو ، اندازہ ہوا کہ مجھ جیسا حساس لکھنے والا، گھر کے کونے میں بیٹھ کر ، تو اپنا کام کر سکتا ہے ۔ مگر باہر کی دنیا کے گورکھ دھندے اس کے بس کا روگ نہیں ۔۔۔ اس کے لئے خواتین کو جس سمجھداری اور مصلحت کا مظاہرہ کرنا چاہیئے ، میں شائد اس کے قابل نہیں ۔ اس لئے بہت سی آپشن اپنے ہاتھوں سے بند کر کے اپنے لئے safe passageیہی لگتا ۔۔۔سو اسی سے اندازہ لگا لو ۔۔۔۔
مریم :زندگی کے کسی مقام پر آپ کو جذباتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا ؟ اور اس سے آپ نے اپنے مستقبل میں کیا شے بدلنے کا فیصلہ کیا ؟
روبینہ:تم سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ کچھ لوگ پیدائشی جذباتی تنہائی کا شکار ہو تے ہیں ۔ بظاہر میں بہت خوش مزاج ، دوستوں میں گھری ، اور قہقے لگانے والی ہوں ،کچھ لوگ تو مجھے صرف ایک مزاحیہ کردار کے علاوہ نہیں جانتے لیکن تنہائی نے کبھی ہجوم میں بھی اکیلے نہیں چھوڑا ۔ یہی ایک پکا ساتھی ہے ۔ سو میں ایسے کہیں بھیجنا بھی نہیں چاہتی ۔ میری بچت اسی میں ہے ۔ کسی انسان سے قربت راس نہیں ، یہی تنہائی مجھے محفوظ رکھتی ہے ۔ اور جو بے رحم اسے پھاند کر قریب ہونے کی کوشش کر تے ہیں ، جلد ہی گھبرا کر بھاگ جاتے ہیں ۔ اندر کی سیاہی یہی تنہائی چھپاتی ہے ۔۔ مجمعے کے لئے ایک روشن چہرہ ۔
مریم: آپ کے لئے لکھنے کی سب سے بڑی تحریک کیا ہے ؟
روبینہ :سچ ۔۔ سب سے بڑی تحریک سچ ہی ہے ۔جس دن سچ نہ لکھ سکوں گی ، اس دن لکھوں گی ہی نہیں ۔ پو ری کوشش کے ساتھ ،آخری سانس کے ساتھ سچ ۔۔۔ بس سچ ۔۔۔۔۔۔۔۔انسان کی ذات کی کھوج ، اس کے دماغ میں گھس کر انسان کو کھوجنا یہ بھی میری تحریک ہے ۔حیرتیں ، خوشیاں اور اداسیاں ۔۔۔۔کیا یہ تحریک کافی نہیں ؟
مریم : زندگی کا کوئی ایسا واقعہ جس نے اعصاب آزمائے ہوں ؟
روبینہ:یہ بھی پو ائنٹ آف نو ریٹرن والی بات ہی ہے ۔ بہت دفعہ ایسے لوگ آپ کی زندگی میں زبردستی شامل ہو جاتے ہیں جیسے وہ ہمیشہ سے آپ کو ایسے ہی ٹریٹ کر یں گے ، کبھی کچھ نہیں بدلے گا ، چہرہ بدلنے یا اصل چہرہ نظر آنے تک ایک بار نہیں ، بہت بارمیرے اعصاب ٹوٹے ہیں ۔جب آخری پتہ بھی ہوا دینے لگے ۔۔۔اور جب انسان آخری دھچکہ کھا لیتا ہے تو وہ موت کی آخری ہچکی جیسا ہو تا ہے ۔۔ اس کے بعد سب اعتبار، سب وعدے ، سب خلوص اپنی موت آپ مار جا تے ہیں ۔۔۔۔۔۔
مریم : آپ کے طرز ِ زندگی پر سب سے گہری چھاپ کس امر کی ہے ؟
روبینہ : انسانیت کی ، ہمدردی کی ، میں اپنی ذات کو پیچھے رکھ کر دوسروں کے لئے جیتی ہوں ۔ لیکن کسی کو اپنی عزت ِ نفس بھی روندنے کی اجازت نہیں دیتی۔میرے نزدیک دوسروں کی عزت اور اپنی عزت اہم ہے ۔ جو لوگ عزت کے قابل ہو تے ہیں ان کی دل سے عزت کرتی ہوں ۔ جھوٹ اور دھوکے باز لوگوں سے خود بخود دل میں گرہ بندھ جا تی ہے پھر میں لاکھ کوشش کر لوں مجھ سے ان کی عزت نہیں ہو تی ۔ اس لئے میرے ساتھ دوستی رکھنی ہے تو سچ کی بنیاد پر ورنہ مجھ سے دور دور ہی ۔۔۔۔۔۔ہا ہا ۔۔۔۔۔۔کیونکہ جھوٹے لوگوں کو میرا باقاعدہ گالیاں دینے کو دل کرتا ہے ۔
مریم :ایک عورت کو نفسیاتی طور پر مضبوط و خود مختار ہو نے کے لئے سب سے ذیادہ کیا پریکٹس کر نا چاہیئے ؟
روبینہ :اس پریکٹس سے سب سے پہلے میں خود مستفید ہو نگی ۔۔۔ ایک دفعہ پتہ چل جائے ۔لیکن مذاق بر طرف ، کوشش یہ کر نی چاہیے کہ اپنے قریب صرف اس کو کرے جو اس کا اصل میں حقدار ہو ، عورت جب جذباتی طور پر کمزور پڑتی ہے تو بہت سے چوردروازہ کھلا دیکھ کر نقب لگا دیتے ہیں ۔ چور تو پھر چور ہی ہو تا ہے ۔ وہ آپ کا ہمدرد کیسے ہو سکتا ہے ۔ وہ تو آپ سے اپنے مطلب کی چیزیں چرائے گا ، رنگ ، روپ ، پیار ، خلوص ، اعتماد اور قربت ۔۔اور جب مطلب پورا ہو گا تو بھاگ جائے گا ۔۔۔۔اس لئے برے سے برے حالات میں بھی عورت کو مضبوط رہنا چاہیئے ۔۔ اپنے کمزور وقت میں اپنے اندر کو مضبوط کریں ۔۔نہ کہ بیرونی وقتی اور کھوکھلے سہاروں کے جال میں پھنستے جائیں ۔یہ ترکیب کمزور دل مردوں کے لئے بھی ہے ۔ ہا ہا ،۔۔۔۔
مریم :زندگی کے اہم فیصلے لینا آپ کے لئے آسان رہا یا دباﺅ برداشت کئے ؟
روبینہ : میں تو شائد کمزور سی ہوں ،بہت حساس ، بہت جلد پریشان ہو جانے والی ، اپنے سے زیادہ دوسروں کو دیکھ کر فیصلے کر نے والی۔ تو جانتی ہی ہو گی ایسی عورتوں کو زیادہ دباﺅ کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ پنگے بھی عجیب عجیب لیئے ۔۔ کبھی بھی ایسی مفاہمت نہیں کی جس سے میرا اپنا آپ مرا ہو ۔۔ مگر اپنا آپ بچانے کے لئے اپنا آپ ہی کتنی مرتبہ مارنا پڑتا ہے یہ ایک حساس انسان ہی جان سکتا ہے ۔ زندہ موتیں ہمارا مقدر ہو تی ہیں ۔۔بار بار ۔۔ تھوڑی دیر کو جیتے ہیں پھر بہت لمبی دیر کے لئے مر جاتے ہیں ۔۔ مگر جیتے رہتے ہیں مر نے تک ۔
مریم : اپنی شخصیت میں کیا بدلنا چاہتی ہیں ؟
روبینہ :یہ بہت بروقت سوال ہے ۔۔میں آجکل با قاعدہ طور پر کوشش کر رہی ہوں کہ میں پو ری طرح بدل جاﺅں اس انسان کے ساتھ جو بے حس ہے ، جو مشکل میں گھرے لوگوں کو چھوڑ کر خوشحال لوگوں کی طرف ہی بھاگتا ہے ، جو صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے ، دوسروں کو کھلونا سمجھتا ہے ، استعمال کرتا ہے ، اور کسی پچھتاوے اور گلٹ کے انہیں روند کر خوشیاں منا سکتا ہے ۔۔ میں باقی کی زندگی ویسا انسان بن کے رہنا چاہتی ہوں ۔ میں پو ری کی پو ری تبدیل ہو نا چاہتی ہوں ۔۔اب بہت تھک گئی ہوں اس دنیا میں survive، کرنے کے طریقہ کار کے خلاف جا جا کر ۔۔بہت تھک گئی ہوں اب ۔۔۔اب تبدیل شد ہونا چاہتی ہوں ۔
شکریہ مریم ۔۔۔۔۔۔۔۔مجھ سے مجھ تک کا سفر کرنے میں ، میری مدد کرنے کا ۔
مریم کو جانے کوئی بہت زمانے نہیں ہو ئے ۔شائد چند مہینے ۔، وہ بھی صرف قلمی رابطہ۔۔ اس کی تحریروں نے مجھے چونکایا ، اس کم عمری میں ایسی پختگی اور ایسی گہری سوچ۔ میری پیشن گوئی ہے کہ مریم ایک مایہ ناز افسانہ نگار کے طور پر جلد ہی ادبی افق پر چھا جا ئے گی ۔ اور ہم اس سے پہلے ہی ایک مرتبہ تو ایک دوسرے سے مل ہی لیں گے ۔میرے دل کی بات اس کے قلم سے لکھی دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوںکیا سوچیں بھی ایک دوسرے میں جنم لیتی ہیں اورشائد یہ رشتہ ہر رشتے سے گہرا ہو تا ہے۔ایسے رشتے ہی ہماری تنہائی ختم کرتے ہیں۔ وہ کہتی ہے روبینہ ہم ایک دوسرے کا آئینہ ہیں ۔۔۔۔سچ ہی کہتی ہوگی ۔۔ کیونکہ لگتا نہیں کہ مریم جھوٹ کہتی ہو گی ۔