افسانہ نگار، کالم نگار اور شاعرہ رابعہ احسن کے روبینہ فیصل سے سوالات 

Published on (May 30, 2018)

افسانہ نگار، کالم نگار اور شاعرہ رابعہ احسن کے روبینہ فیصل سے سوالات


رابعہ احسن ،ایک ہنسنے مسکرانے والی ،مجھے احترام اور محبت دینے والی دوست ۔ اس سے بڑھ کر ایک صاف گو بلکہ منہ پھٹ کالم نگار اور ایک ابھرتی ہوئی شاعرہ ، جس کی شاعری کی کتاب “خوشبو لمحے” اپنی خوشبو پھیلا چکی ہے۔انسان کے طور پر رابعہ کی تعریف یہ ہے کہ اس کا ایک ہی چہرہ ہے ۔اور جب میں اللہ سے دعا مانگتی ہوں تو یہی کہتی ہوں کہ اب جسمانی اور جذباتی طور پر وہی لوگ میرے قریب رہیں ، جو جھوٹ کا نقاب پہنے نہیں گھومتے ، رابعہ کا مجھ سے ملنا میری اسی دعا کا نتیجہ ہے ۔وہ جو ہے جیسی ہے ویسی ہی نظر آتی ہے ۔ اس کا کھرا اور کھارا پن کبھی کبھی میری ناراضگی کا باعث بھی بنتا ہے لیکن وہ میری ڈانٹ کھانے کے بعد مجھے دگنی عزت دیتی ہے ،کہتی ہے کیونکہ آپ کا خلوص اور سچائی ہے جس کی وجہ سے میں آپ ہی کی بس ڈانٹ سنتی ہوں ۔۔ ورنہ کسی کی جرات ہے ۔۔۔۔ایسے رشتے ،اور یہ دوست ہماری زندگی میں نعمتیں ہو تے ہیں ۔ ویسے تو وہ ہر وقت مجھ سے کچھ نہ کچھ پو چھتی رہتی ہے مگر یہاں رابعہ کے مجھ سے کئے گئے چنداہم سوالات :
رابعہ : کیا آپ کو لگتا ہے کہ لکھنے سے آپ اپنے لاشعور میں بسے ہو ئے خیالات کو باآسانی اپنی کہانیوں میں اتار پاتی ہیں ؟وہ سوال جن کا جواب کوئی نہیں دے پاتا ،آپ کی تحریریں آپ کو ان کا جواب دے دیتی ہیں ؟
روبینہ :شعور،لاشعور،تحت الشعور ۔۔دل اور دماغ ۔۔۔اپنے خیالات ، دوسروں کے خیا لات ، سب کچھ ، بہت آسانی سے میں کہانیوں میں اتار لیتی ہوں مگر ابھی بہت کچھ کہنے کو باقی ہے ، انہیں کہنا کا طریقہ ڈھونڈ رہی ہوں ، کوئی محفوظ سا ۔۔ جس میں میری عزت، جان اور مال محفوظ رہے ۔۔ لکھنا آسان ہے ، کیا نہیں لکھنا ، اس کی وجہ سے ہاتھ روکنا پڑتا ہے ۔ ورنہ تو یہاں دھڑن تختہ ہو جائے میرا بھی اور دنیا کا بھی ۔۔۔۔تم تو جانتی ہی ہو ،ہم جیسوں کو تو سٹاپ سائن پر بھی رکنا مشکل لگتا ہے ۔۔ہماری گاڑی بس رول ہی ہو تی رہتی ہے ۔
میری کھوج ، سچ کی ہے ۔ چاہے وہ میری ذات کا سچ ہے یا زمانے کا ۔۔ اس کا جواب ڈھونڈنے سے پہلے ، سب نقاب اتارنے ضروری ہیں ۔ ابھی میری اپنی اصلی ذات ، ان نقابوں کے بہت پیچھے ہے اس لئے اس سے آغاز کیا ہے ۔۔ ہم دوسروں کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں اور ہماری اپنی ذات ایک کونے میں ریجکیٹڈ پڑی رہتی ہے ، سوچتے ہیں کوئی اور آئے گا اور ہماری ذات کو ڈھونڈے گا ۔۔ ایسا نہیں ہو تا ۔۔تو ہمیں سوالوں کے جواب تحریروں میں نہیں اپنی ذات سے ملنے شروع ہو جاتے ہیں ۔۔ میں آجکل اپنے آپ کو کٹہرے میں کھڑ ا رکھتی ہوں ۔۔تم بھی یہیں سے شروع ہو جاؤ ۔۔ سب کو یہیں سے شروع ہو نا چاہئے ۔۔ ہر انسان خود احتسابی ، خود کلامی کا عمل شروع کر دے ، اپنی جزا اپنی سزا خود تجویز کر لے تو ، قسم سے اس دنیا سے حق تلفی ، دھوکہ اور ناانصافی کوچ کر جائیں ۔ شیطان بہت اداس ہو جائے گا ۔شائد خود کشی ہی کر لے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رابعہ :بحیثیتِ خاتون لکھاری،کالمنسٹ،آپ کے ہم عصر لکھاریوں نے کیسے آپ کی پذیرائی کی ؟کیا یہ لوگ نئی آنے والیوں کو کھلے دل سے تسلیم کرتے ہیں ؟
روبینہ :تمھارا اس سوال کو پوچھنے کے پیچھے جو کر ب ہے وہ میں محسوس کر سکتی ہوں ۔میں نے ڈاکٹر خالد کے انٹرویو میں اس کا جواب دیا ہے ۔ نئے آنے والوں کے لئے اپنی جگہ بنانا، بہت مشکل کام ہو تا ہے ،عورت ہو تو یہ ٹاسک اور بھی دشوار ہو جا تا ہے ۔ میرے اندر ایک چیز ہے جسے کہتے ہیں خود میں مگن ہو جا نا ۔۔ جب میں کچھ کر نے کی ٹھان لوں تو چاہے ساری دنیا ایک طرف ہو جائے ، میں وہ کر گذرتی ہوں ، یا کر تی رہتی ہوں ۔۔ کوئی خاص حوصلہ افزائی نہیں ملی خاص کر کے کالموں کے لئے ۔ کہانیوں کا بھی یہی حساب تھا لیکن ڈاکٹر خالد ،ڈاکٹر ڈینس آئزک اورفیصل فارانی وغیرہ ، بہر حال میری تحریروں کو پسند کرتے تھے ۔ جب فیصل فارانی نے کہا آپ کی تحریروں میں امرتا پریتم کی جھلک ہے ، تو اس جیسے منجھے ہو ئے لکھاری کے منہ سے ایسی تعریف میرے لئے ایوارڈ سے کم نہیں تھی ۔ پھر ایک پرانا دوست ، فیصل حنیف ، وہ بھی بہت پڑھا لکھا انسان اور شاعر ہے ۔ وہ میرے کالم کی مخالفت کرتا تھا ، مگر افسانہ اور نظم کے لئے باقاعدہ منتیں کرتا تھا ، کہ لکھو اور کبھی لکھنا نہ چھوڑنا ۔ اس نے خودلکھنا چھوڑ دیا تھا ، مگر وہ مجھے کبھی لکھنے سے رکنے نہیں دیتا ۔وہ کہتا ہے باپ جو کام خود نہیں کر سکتے ، اپنے بچوں کو کرتا دیکھ کر خوش ہو تے ہیں ۔۔ تو ایسا ہم عمر باپ میسر رہا مجھے ۔ اور مجھ سے امیدیں رکھنے والے اور بھی بہت سے دوست ہیں، پرویز صلاح الدین کا نام لینا بھی ضروری ہے ۔
تو ان سب محبتوں کے بدلے جو بھی مخالفتیں ہو ئیں ، میں سب سے بھڑ گئی اور کبھی بکھری نہیں تھی ما سوائے پچھلے ایک دو سالوں کے میرا لکھنے کا سلسلہ رکا ۔۔ ورنہ مجھ پر میرے بنانے والے کا کرم رہا ہے ۔۔ پیارے پیارے لوگ مجھے تھامے رکھتے ہیں ۔۔ اور اب تو تم بھی ساتھ ہو تو سب خیر ہے ۔۔۔
رابعہ:ٹورنٹو کے سین میں جہاں اینٹی پاکستان ایجنڈا والے لوگ ہر وقت سرگرم رہتے ہیں ، ایسے میں پاکستان کے لئے آپ کا کیا کردار رہا ہے ؟
روبینہ: ہا ہا۔۔ ساری دکھتی رگوں کا تمھیں پتہ ہے ۔ اینٹی پاکستان ایجنڈا کا تو مجھے نہیں پتہ کہ ان لوگوں کا کوئی مادی مفاد بھی ہے یایونہی ایک فیش کے طور پر پاکستان کے خلاف بات کی جاتی ہے ۔مگر ٹورنٹو میں ہی آکرمجھے پتہ چلا کہ پاکستان سے محبت کر نے والے کو کم پڑھا لکھا سمجھا جا تا ہے اور دانشوری کی تعریف ،انڈیا کی تعریف ہی ہے ۔اگر کشمیر یا فلسطین میں بہنے والے خون کی بات کروں گی تو متعصب کہلائی جاؤ ں گی لیکن اگربلوچستان میں یا پاکستان کے اندر ہو نے والے کسی بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر آواز اٹھاؤں گی تو امن پسند کا سرٹیفیکٹ پاؤں گی ۔مجھے امن اور تعصب کے پاسپورٹ کی سمجھ ہی نہیں آسکی ۔ محمد علی جناح کو برا بھلا ہی کہنا ہے تبھی میری ایم اے کی ڈگری کو مانا جائے گا ،اگر ان سے متاثر ہوں تو میری ڈگریاں بھی مشکوک ہو جائیں گی ۔
میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ کچھ معاملات میں میں دنیا کی پرواہ نہیں کرتی ۔ پاکستان کی مٹی سے مجھے پیار ہے ۔ اپنے تئیں جو ہو سکا کرتی رہی ، آئندہ بھی کر تی رہوں گی ۔کچھ لوگوں نے وقتی سہارا دیا ، مگر اس کے پیچھے ان کے اپنے ذاتی پر وجیکشن کے مفادات چھپے ہو ئے تھے ، اس لئے وہ پورا ہو تے ہی ان کی دلچسپی بھی ختم ہو گئی ۔پاکستان کے لئے مجھے سب سے ذیادہ یہی افسوس ہوا کہ پاکستان کے ساتھ کوئی بھی مخلص نہیں ، نہ آرمی ، نہ میڈیا ، نہ بیوروکریسی ، نہ دانشور اور نہ سیاست دان پاکستان کی نمائندگی کر نے والے ، بڑی بڑی تنخوائیں لینے والے بھی بس اتنا ہی پاکستان کا درد رکھتے ہیں کہ ان کی اپنی بلے بلے ہو تی رہے ۔۔ اس لئے اینٹی پاکستان مافیا سے ذیادہ ، پاکستان کو نقصان اس کے اپنے چھوٹے نظریات اور ذاتی مفادات والے تنخواہ داروں سے ہوا ہے ۔ نہ کسی کو پاکستان کا امیج ٹھیک کرنے کی فکر ہے نہ یہ ان کی سر دردی ہے۔ یہ لوگ حکمرانوں کے اور اپنی ضرورتوں کے وفادار ہیں ۔ حکمران بدلے وفاداری بھی بدل گئی اسی طرح ضرورت بدلی تو وفاداری بدل گئی ۔یہ وہ شجر ہیں جن کی ٹہنیوں پر سہارا لے کر بیٹھنا ،خطرے سے خالی نہیں ،آپ کسی بھی لمحے زمین پر آپڑیں گے ۔۔ پاکستان کا کوئی وفادار نہیں ۔۔۔ ہم یہاں رہنے والے پاکستان کے امیج کے لئے تنہا لڑتے ہیں ۔ پاکستان سے محبت کا بڑا نقصان ہے ۔ دعا کرنا کہ پاکستان سے نفرت کر نے والوں کی ساری انگلیاں گھی میں دیکھ کر اور ہم جیسوں کو عبرت کا نشان بنتے دیکھ کر آئندہ یہاں پاکستان سے محبت کر نے والے ناپید نہ ہو جائیں ۔پاکستا ن میں سکول یا ایک یتیم خانہ بنوانے کا میرا خواب ، ہی اب میری پاکستان سے محبت کا اظہار ہے ۔ باقی تو یہ پراپگینڈا کی جنگ تنہا میرے بس کا روگ نہیں ۔ مجھے اتنے سالوں میں کبھی اینٹی پاکستان مافیا نہیں ہرا سکا تھا مگر پاکستان کے نام نہاد رکھوالوں کی منافقت اور دھوکہ دیکھ کر میں مایوسی کے اندھے کنوئیں میں گر گئی ہوں ۔
رابعہ : نئی آنے والی رائٹرز کو اپنے تجربے سے کس طرح گائیڈ کر یں گی ؟
روبینہ : دیکھو رابعہ !!اپنا شوق، اپنے خواب ، یہ بالکل ہمارا ذاتی اثاثہ ہو تے ہیں ۔ ان کی تکمیل کرنا اور منزل تک پہنچنا ، یہ ہمارا اپناکام ہے ، اس کے راستے میں جو بھی کانٹے آئیں گے ، ہمیں خود ہی چننا ہو تے ہیں ۔ اس راستے میں سایہ دار شجر بہت کم ہو تے ہیں ۔ زیادہ تر راستہ سخت چبھنے والی دھوپ میں طے کرنا ہو تا ہے ۔سفر کے آغاز میں کوئی سکھانے والا رہبر مل جائے ، تو اس سے بڑی خوش قسمتی اور کو ئی نہیں ہو تی ۔ دوسروں کی ویلڈیشین سے ذیادہ اہم اپنا اطمینان ہے۔۔ لوگ کیا کہیں گے یا کیا کہہ رہے ہیں اس سے ذیادہ ضروری خود پر بھروسہ ہے ۔۔ کتب بینی ، اور لکھنے کی پریکٹس ، یہ انسان کو انگلی پکڑ کر اس کی منزل طرف خود ہی لے جاتی ہے ۔۔ سیکھنے کا عمل رکنا نہیں چاہیئے ۔۔نہ جانے کب اور کیسے لوگ اپنے آپ کو عقلِ کل سمجھنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ مجھے تو ہر وقت یہ احساس رہتا کہ اس کائنات میں بکھرے اتنے سارے علوم کا ایک قطرہ بھی میرے اندر نہیں اترا ۔۔۔۔۔۔۔میرا تجسس آج بھی برقرار ہے ۔
سو پڑھو گے لکھو گے تو بنو گے ادیب۔۔۔۔نواب نہیں کیونکہ وہ آجکل کھیلنے کودنے والے بن رہے ہیں وہ بھی صرف کرکٹ۔۔۔