دو وقتوں کا قیدی

Published on (September 28, 2011)

برامپٹن ہسپتال کے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے میں فیصل کو اور کبھی پرویز پروازی صاحب کو پہلے اندر جانے کا کہہ رہی تھی ۔اس وہم کے سا تھ کے مریض شائد مجھے نہ پہچانتا ہو،اور اپنے کمرے میں کسی اجنبی عورت کو دیکھ کر ایکدم پریشان ہی نہ ہوجائے۔ مگر جیسے ہی ہم تینوں اندر داخل ہوئے مریض کی آنکھوں میں پہچان کی چمک اور چہرے پر بشاشت پھیل گئی، انہوں نے سیدھا بیٹھنے کی کوشش کی، ان کی بیگم نے ہاتھ سے انہیں وہیں رہنے کا اشارہ کیا کیونکہ ان کے جسم پر لگی بے تحاشا ٹیوبز وہ دیکھ رہی تھیں، سلطان جمیل نسیم صاحب ہم لوگوں کو دیکھ کر خوشی کے مارے انہیں نہیں دیکھ رہے تھے۔ اور بڑی خوشی اور جوش سے بولے آئیے آئیے روبینہ فیصل صاحبہ،پروازی صاحب آئیے۔ پروازی صاحب تو ان کے دوستوں میں سے ہیں، مگر میں تو اپنے آپ کو کسی قطار شمار میں نہیں سمجھتی تھی۔ بیماری کی اس حالت میں سلطان جمیل صاحب جیسے بڑے افسانہ نگار کا مجھ جیسی ناچیز کو پہچان لینا میرے اندر ایک عجیب سی خوشی بھر گیا۔ یہ بڑا انوکھا تجربہ تھا۔اتنا ہی انوکھا جب میرے کسی کالم پر مجھے منشا یاد صاحب کی نہ صرف تعریفی ای میل آئی بلکہ انہوں نے میرا کالم اپنےconatcts کو بھی فارورڈ کیا تھا اس اضافے کے ساتھ کہ روبینہ فیصل کے باقی کالمز اور افسانے ان کی ویب سائٹ پر جا کر پڑھیں۔میں ان دو لمحات کو اپنی اس بے نام اور چھوٹی سے ادبی زندگی کی بہت بڑی کامیابی سمجھتی ہوں۔ اس کے بعد ہم دس پندرہ منٹ ان کے پاس کھڑے رہے۔ مگر اس مختصر وقت میں مجھ پر ایک اور انکشاف ہوا کہ اصلی اور نسلی ادیب کی ادب اور ادب شناسوں کے لئے ہڑک کیا ہوتی ہے۔وہ بارہا پروازی صاحب سے کہتے جا رہے تھے اس ہفتے کے آخر تک ہسپتال سے چھٹی مل جائے گی پھر نشت رکھتے ہیں۔۔میں نے یاد کروایا آگے رمضان شروع ہونے والا ہے تو کہنے لگے کیا افطاری پر نشت نہیں ہوسکتی۔؟اور وہ بار بار میر ا اور پروازی صاحب کا شکریہ ادا کرتے جارہے تھے اور اس سے بھی ذیادہ فیصل کا جو ہم دونوں کو لے کر وہاں آئے تھے۔اور کہنے لگے فیصل میاں آپ کے گھر کا نمک کھا یا ہوا ہے۔اور مجھے بہت حیرت ہوئی کہ انہیں سالوں پہلے میرے گھر ایک بہت ہی چھوٹی سی افسانہ کی نشست کا وہ وقت بھی اس شدید بیماری کے لمحے میں یاد ہے۔۔ اس کو مروتوں والے انسان کہوں، تہذیب اور قدروں والے کہوں یا کیا کہوں۔۔بس اتنا ضرور کہہ سکتی ہوں کہ ایسے سلیقے اور محبتوں والے لوگ اب نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ورنہ نمک تو نجانے کتنے لوگ کھا چکے ہیں،مگر فیصل میاں کا شکریہ آج تک کسی نے ادا نہیں کیا۔۔ اور نہ اس نمک کو اتنی عقیدت اور محبت کے ساتھ یا د رکھا کہ بسترِ علالت پر بھی شکریہ کہتے نہ تھکتے تھے۔
وہیں اسی ہسپتال کے کمرے میں مجھے احساس ہوا۔۔کیوں ثروت ضحی میلوں دور بیٹھے ان کی علالت پر اس بری طرح پریشان ہورہے تھے۔ اور جب سلطان صاحب کے گھر والوں سے نہ میرا اور نہ ذوہا صاحب کا رابطہ ہورہا تھا، تو وہ مجھے بار بار میسج کرتے جاتے تھے اور کہتے تھے بس ہسپتال چلی جاؤ۔۔کچھ تو پتہ چلے۔۔ میں نے کہا کسی سے بات ہو، تو جاؤں۔پتہ نہیں کون سا ہسپتال ہے، کمرہ کیا ہے ان کی پوزیشن کیا ہے۔مگر اس رات ضحی صاحب بہت بے کل تھے اورمجھے نہ جانے کتنی چھوٹی چھوٹی باتیں انہوں نے سلطان صاحب کی سنائیں۔کہنے لگے میں بہت چھوٹا تھا جب میرے والد مجھے چھوڑ گئے تھے مگر جب سے سلطان صاحب زندگی میں آئے ہیں ابا کے جانے کا غم بھول گیا ہوں ۔پھر تھوڑی دیر بعد اپنے اکھڑ انداز میں دھمکی دیتے تھے تم جلدی جلدی رابطہ کرتی ہو یا میں ٹورنٹو آؤں۔۔میں فورا کہتی۔آپ رہنے ہی دیں۔۔ میں کل تک کچھ کرتی ہوں اگر آج رات آپ سونے کی اجازت دیں گے تو!!۔ آپ تب ہی آئیے گا جب وہ پوری طرح صحت مند ہوجائیں گے۔ ضحی صاحب کا سلطان صاحب کے لئے اتنا پیار ہسپتال کے کمرے میں کھڑے کھڑے سمجھ میں آیا۔۔بلاشبہ سلطان صاحب نہ صرف ہمارا ادبی اثاثہ ہیں بلکہ ایک انتہائی محبت کرنے والے، باشعور اور شائد ہماری جو بچی کچھی تہذیب رہ گئی ہے اس کا نشان ہیں۔مگر ان کے قدر دان کہاں ہیں۔یہ اصلی موتی پاکستان کی ملکیت تھے، وہاں کے حالات نے ایک دفعہ پھر مہاجروں کی کھیپ پیدا کی اور جڑیں زمین میں رہ گئیں تنے ہوا میں معلق ہوگئے۔ ان کی قدر کون کرے؟ یہ تو سارا شہر سر کٹوں سے بھرا ہوا ہے۔ صرف تنے ہوا میں ادھر ادھر لٹکتے نظر آتے ہیں۔۔
ایک دفعہ امرتا پریتم نے ملکہ پکھراج سے پوچھا آپ کو خود کون سا گانے والا اچھا لگتا ہے۔ انہوں نے جواب دیا حامد علی بیلا۔وہ نہ پیسوں کے لئے گاتا ہے اور نہ شہرت کے لئے۔وہ صرف اپنے مرشد کے عشق اور اپنی روح کی تسکین کے لئے گاتا ہے۔اور یہی جواب مجھے ضحی صاحب سے ملا جب میں نے کہا افسانہ نگار تو اور بھی ہیں آپ کیا سلطان صاحب کا دم بھرتے رہتے ہیں، انہوں نے کہا وہ ذاتی شہرت یا مفاد کے لئے نہیں بلکہ انہیں افسانے سے عشق ہے، اس لئے لکھتے ہیں۔
اور جب اکرام بریلوی صاحب کی کتاب۔۔سلطان جمیل نسیم کے افسانے۔۔تنقید اور تجزیہ پڑھی۔۔کتاب پڑھنے کے بعد جو تاثر بیٹھا یا اٹھا وہ تو بعد کی بات ہے، اکرام بریلوی صاحب جیسے عظیم ادیب کا سلطان صاحب کے افسانوں پر پوری کتاب لکھ دینا ہی اس بات کی گواہی ہے کہ سلطان صاحب افسانہ نگاری کے ساتھ کس قدر دیانت دار ہیں۔
پھرجب ہر طرف ادبی دکانوں، ذاتی نمائش اور مفاد کا شور پڑا ہو، ایسے میں کبھی کبھی میرا دل گھبرا اٹھتا ہے کہ اس نمائیشی ہی ہو ہا میں ایسے نایاب اور سچے موتی کہیں گم ہوجائیں گے مگراکرام بریلوی صاحب جب اپنی کتاب میں ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ اپنی شہرت کا ڈھول نہیں پیٹتے بلکہ خاموشی سے لکھتے پڑھتے رہتے ہیں تو دل کو تسلی ہوتی ہے اور مذید تسلی اس وقت ہوتی ہے جب دیکھتی ہوں پرویز پروازی جیسے ایک اور گوشہ نشین جنہیں خود بھی نہ شہرت کا شوق ہے نہ محفلوں میں آنے جانے کا مگر سلطان جمیل صاحب کی علالت کا سن کر کہتے ہیں روبینہ بیٹا جب بھی جاؤ مجھے ضرور ساتھ لے کر جانا،اور مذید جب دیکھتی ہوں ثروت ضحی جیسے اصل کی پہچان رکھنے والے،دو ٹوک بات کرنے والے جیالے لڑاکے ہمارے درمیاں موجود ہیں تو اصل کہیں گم نہیں ہوگا اورنقل ہر جگہ ہمیں مات نہیں دے سکتی۔پھر جب نسرین سید کو پوچھتی ہوں چھوٹا سا مشاعرہ بھی رکھ لیں گے تو کہتی ہیں مشاعرہ تو ہوتا ہی رہتا ہے۔ سلطان صاحب سے باتیں کریں گے ان سے کچھ سیکھیں گے۔۔
سلطان جمیل صاحب کے افسانوی مجموعے کھویا ہوا آدمی،سایہ سایہ دھوپ،ایک شام کا قصہ،میں آئینہ ہوں۔۔سادہ اور عام فہم میں لکھی گئی یہ کہانیاں ہم سب کی کہانیاں ہیں۔۔ میری طرح ایک بنکر رہے ہیں۔۔اور میں جانتی ہوں بنک کے کھاتوں میں الجھ کر انسان کے نازک احساسات کی ایسی کی تیسی پھر جاتی ہے۔مجھ سے تو ان دنوں لاکھ شوق کے باوجود ایک بھی لفظ نہ لکھ جا سکتا تھا۔ بلکہ ادب سے باقاعدہ رکھائی والا رویہ شروع ہوگیا تھا۔۔ نہ جانے سلطان صاحب نے کیسے واؤچر اور لیجر لکھتے لکھتے کہانیاں لکھ ڈالیں۔ اور بات پھر وہیں پر آکر رکتی ہے۔ کہ یہ خالصیت، یہ پیور نیس،یہ اییمانداری یہ خداد صلاحیتیں۔۔۔ہی ہیں جو شدید بیماری میں بھی آنکھوں میں چمک بھرے کہتے ہیں۔۔ ادبی نشست ہونا ضروری ہے۔۔۔جب ادب ایوارڈز، ناموں کے ڈھول، اور ذاتی پروجیکشن کے نیچے دب رہا ہو، ایسے میں نقاہت بھری ایک چھوٹی سی، اصلی نشست کی فرمائش کرتی آواز نہ صرف ادب کے ساتھ اپنے خلوص کو ظاہر کرتی ہے بلکہ ہم جیسے سچائی اور اصل کے متلاشی لوگوں کو گھٹن میں جینے کے لئے ایک ٹھنڈی ہوا بیجھتی ہے۔اللہ پاک آپ کو صحت دے، اور ہم جیسوں کو منزل۔۔۔۔۔۔